Artistic Discourse: Zaheer Chaudhry (abstract from conversation)

ش م۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ لوگوں کو فوٹو سمجھ نہیں آتی، تو کوئی بات نہیں۔ ہم سب کو چار چیزیں سمجھ آتی ہیں اور باقی چار نہیں۔ مگر نہ سمجھ آنے والی چیز کو بہرحال ہضم تو کیا جا سکتا ہے جب تک کہ وہ پوری طرح سمجھ نہ آ جائے۔ میرے نزدیک فوٹوگرافی کی دو چیزیں نہایت اہم ہیں۔ ایک تو مووِنگ مومِینٹ کو  فریِز کرنا کیونکہ میری آنکھ مووِنگ اِمیج کو ایَز اے موُومنٹ ہی دیکھ سکتی ہے، ایز سٹِل نہیں۔  ایسی چیز جس کو میں  نے ہمیشہ حرکت میں ہی دیکھا ہے اس کو جب میں رُکی ہوئی حالت میں دیکھوں گی تو میری دنیا ہی بدل جائے گی۔  فوٹو کی دوسری اہمیت اس چیز میں ہے کہ ہم دنیا کو سلیکٹِیولی دیکھتے ہیں۔ یعنی جو سمجھ میں آیا یا جس پہ فورا توجہ چلی گئی اس پہ غور کر لیا اور باقی نوٹ  نہیں کیا۔ مگر جب سیِن کے تمام تر ایلیمنِٹس ایک فوٹو میں آپ کے سامنے حاضر ہو جاتے ہیں تو ریئلیِٹی اور سچ مکمل ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کے باوجود فوٹو کو اتنی ویلیِوُ نہیں دی جاتی، آخر کیوں؟

ظ۔ چ۔ سیدھی سی بات ہے۔ جس طرح آرٹ اسکول میں ہمیں پینٹنِگ، اسکلپَچَر اور آرٹ ہِسٹری مُقّدس بنا کے پڑھایا گیا اور یہ بتا کہ پڑھایا گیا یہ اعلی ترین آرٹس ہیں جن کی اہمیت پر کوئی سوال بھی نہیں اٹھا سکتا، اگر فوٹو گرافی بھی اتنی ہی مُقدس ڈِکلیئر ہوجاتی تو خود بخود اس کی ویلیِوُ بھی بن جاتی اور پریکٹِیشنَر بھی پیدا ہوتے۔

 یا پھر اس بات کا ایک اور کلچرل طرز کا بیَک گراؤنڈ بھی ہو سکتا ہے۔چونکہ ہم سب لوگ کھیتی باڑی اور محنت مزدوری سے ترقی کرکے یہاں تک آئے ہیں تو ہماری سائیکی میں یہ بات موجود رہ گئی ہے کہ سخت محنت ڈالے بغیر انسان کے کیے ہوئے کسی بھی کام میں ویلیِوُ پیدا ہو ہی نہیں سکتی۔ اگر ہمارا بیَک گراؤنڈ سوچنے سمجھنے اور پڑھنے لکھنے سے ہوتا تو شاید آج یہ دِقّت موجود نہ ہوتی۔ ہم سوچ اور ذہن کی تربیت کی اہمیت کو سمجھتے بھی، مانتے بھی، اور ویلیِو بھی کرتے۔ ہمیں ابھی ذرا دیر لگے گی۔