Artistic Discourse: Salman Alam Khan (abstract from conversation)

 

ش م۔ آپ نے مجھے کچھ ایسے پوائنٹس دیے ہیں جن کے بارے میں پہلے کبھی ایسے سوچا نہیں تھا۔

ایک تو یہ کہ ہماری سوسائٹی کی پیرینِٹنِگ یعنی اولاد کی تربیت پرآپ نے جو کَومینٹ کِیا ہے وہ بالکل درست ہے۔ کیوں کہ ہم اپنے بچوں کو صرف وہ چیزیں سوچنے اور کہنے کی اجازت دیتے ہیں جو معاشرے نے ہمیں الاؤ کیے ہوئے ہیں۔ جو اُن کے خیال میں درست ہے، وہی بچوں کے خیال میں بھی درست ہونا چاہیے۔ اِسی چکر میں بچے کے اندر کا انِڈویژُول گُونگا یعنی مِیُوٹ ہو جاتا ہے، ایک طرح سے اس کی زبان کو تالے لگ جاتے ہیں۔ اس بچے کو بار بار تربیت کے نام پہ یہی بتایا جاتا ہے کہ اُسی چیز کوپسند کرو اوراُسی چیز کو ڈِس مِس کرو جس کو ہم کرتے ہیں۔ ہم اسی چیز کو اچھی تربیت کہتے ہیں ۔ میرے لحاظ سے یہ ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی اور انڈویژول پر ظلم ہے۔

 مگر اس کا ایک اور پہلو بھی ہے، وہ یہ، کہ چونکہ پاکستان جیسی جگہہ پر ہم سب ہی کی ایک لحاظ سے زبان بندی ہُوئی ہوتی ہے، تو ہماری اِنر وَرلڈ بڑی زندہ ہو جاتی ہے ،اور جب بھی موقع ملتا ہے، ہم ڈٹِرمِینیشن سے اپنے پلان پر عمل کرتے ہیں بڑا فوکَسڈ ہو کر۔ کیونکہ آپ خاموش رہ  رہ کے آبزرونٹ تو بہت ہو چکے ہوتے ہیں اور کئ باتیں میچور کرچکے ہوتے ہیں۔ کیا میری بات میں کوئی جان ہے؟

س ع۔ بالکل۔ بالکل ایسے ہی ہے۔ کیوں کہا جاتا ہے کہ آرٹ تو زیادہ تر نِکلتا ہی سَفرنگ اور تکلیف سے ہے؟

جب بھی آپ کی ارد گرد ماحول میں چیزیں تکلیف دہ ہونگی ،یا آپ ایسے حالات میں نا رہتے ہوں جو نارمل ہوں، تو ایک گہرا تھاٹ پروسس جنم لے گا۔ جب آپ اپنے ماحول میں کَمفرٹیبل ہوں گے تو آپ کو زیادہ سوچنے کی کوئی خاص ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔

مثلا جب آپ کے پاس وافر فیسِیِلیٹِیِز اور آرام دہ ماحول ہوتا ہے تو آپ ایک خاص حد سے آگے سوچنے کی کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے کیونکہ آپ کو تو پکا پکایا مِل رہا ہوتا ہے، ضرورتیں آرام سے پوری ہو رہی ہوتی ہیں تو آپ کو محنت یا ایفَرٹ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

 میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ آرٹ  کا کام ہے کہ جو آرام سے بیٹھے ہیں ان کو ذرا بے آرام کرے، اور جو بے آرام ہیں ان کو کچھ آرام دے۔

یہ تو بات بالکل درست ہے کہ ہم انسان باہر حال کمفرٹ کی موجودگی میں اِیِزی ہو جاتے ہیں۔