Artistic Discourse: Imran Haider (abstract from conversation)

ش م۔ بالکل شروع کی بات کرتے ہیں۔  یہ بتائیں آپ وکیل یا ڈاکٹر کیوں نہیں بنے؟ کب سوچا کہ آرٹس میں جانا چاہیے؟.....

 ع ح۔ میرے پر دادا کیلیگرافر تھے۔ مگر یہ بات مجھے کوئی پایچ سال پہلے ہی پتہ چلی ہے۔ وہ رنگریز بھی تھے جس کو ٹریڈیشنل زبان میں للاری کہا جاتا ہے۔

 ش م۔ جی جی۔ یہ بہت بڑی فنکاری ہے۔

 ع ح۔ میرے ابا ٹائی اینڈ ڈائی کا کام کرتے تھے مگر مجھے اصل شوق میری امی سے پڑا۔ وہ مجھ سے کچھ کچھ لکھائی کا کام کروایا کرتی تھی۔ تو اس لحاظ سے جو میں نے پہلا آرٹ سیکھا، وہ کیلیگرافی تھا۔ مجھے منی ایچر کا تب پتہ چلا میں۲۰۰۳  میں لاہور میوزیم میں پہلی دفعہ وزٹ کرنے گیا۔ بہت مزا آیا، اور میں نے میوزیم میں صرف ایک چیز دیکھی، وہ تھا منی ایچر۔ اس کے بعد کچھ اور دیکھنے کو دل ہی نہیں چاہا۔ میں نے اسی وقت ڈیسائڈ کر لیا کہ میں نے صرف یہی فن سیکھنا ہے۔ تھوڑی سی انفارمیشن لینے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ یہ سب این سی اے سے ہوتا ہے۔ اور پھر میں نے کوشش کر کے این سی اے میں داخلہ لے لیا۔ مجھے بہت بعد میں پتہ چلا کہ اصل میں میری فیملی میں بہت سارے آرٹسٹ پہلے سے موجود تھے۔.........