·ش م۔ یہ تو بات آپ کی درست ہے، ہم اپنے خیال سے اپنا سب سے معنی خیز ایکسپریشَن کرنے کے لئے مِیڈیَمز اکثر بدلتے رہتے ہیں۔ کیونکہ مقصد تو اپنی بات کو کہنا اور آہستہ آہستہ اس کو میچیور کرنا ہے۔ کئی دفعہ کچھ باتیں اتنی مشکل سی ہوتی ہیں کہ جب ہم ان کو کہنے کے طریقے ڈیزائن کر رہے ہوتے ہیں تو اس وقت بالکل یہ پروا نہیں رہتی کہ ٹُو ڈِی ہے یا تھری ڈِی، پینٹنِگ ہے یا لِکھنا، میوزِک ہے یا پَرفارمنس۔
کیا آپ کو میری بات میں کوئی جان محسوس ہو رہی ہے یا آپ کاخیال کچھ فرق ہے؟ ویسے آن اے سائیِڈ نوٹ، لاہور جیسی جگہ پر رہنا جہاں شاہ عالمی بھی ہے اور کی طرح کے کاریِگروں کی جینریشَنز ابھی بھی کام کرتی ہیں، ایک بہت بڑی نعمت ہے۔
ص ن۔ میں آپ کی دونوں باتوں سے بالکل مُتفِّق ہوں۔ شروع شروع میں تو مٹِیرئیل کی تلاش چلتی ہے ایک اور طرح کے اِنٹرَسٹ سے، لیکن ہوتا یہ ہے کہ جیسے جیسے آپ مٹیرئیلز کی کولیکشن بڑھتی جاتی ہے آپ کے اندر بھی کچھ کنَیکشَنز بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ اب یہ کس لیوَل پر ہوتے ہیں، کانشِیئَس یا اِن کانشِیئَس، اس کے بارے میں مجھے پورا یقین نہیں ہے فی لحال۔ لیکن ضرُور ہو یہ رہا ہوتا ہے کہ کچھ آئیڈِیاز اور کچھ مٹیرئیلز آپس میں معنی خیز طریقے سے گروُپ ہونا شروع ہو جاتے ہیں، اور اسی گروُپِنگ میں سے میرے اپنے ایبسٹَریکٹ آئیِڈیاز بالکل اِسی ُرخ میں میچور ہونا شروع ہو جاتے ہیں جیسے میں شاید خود سوچتی اگر ان نئے مٹیریلز کا مجھے پہلے سے پتہ ہوتا۔