Artistic Discourse: Kauser Iqbal.(abstract from conversation)

 

·ش م۔ ویسے میں خود بہت حیران ہوں کیونکہ مجھے آپ سے بات کرتے ہوئے کبھی ایک سیکنڈ کے لئے بھی احساس نہیں ہوا کہ آپ کو کبھی بولنے میں دقت تھی۔ کہا جاتا ہے کہ کسی قسم  کی بھی جب میکنِگ کی جاتی ہے وہ کوئی کرافٹ ہو، آرٹ ہو، میوزک ہو یا لکھنا، وہ اصل میں ہم آرٹِسٹس کے لیے سوچنےکا عمل ہوتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

 ک ا۔ بالکل درست ہے۔ مجھ سے جب کوئی پوچھتا ہے کہ کیا میرے ذہن میں کوئی امیج ہے؟ میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ میں کہتا ہوں ایک دفعہ پینٹنگ کرنے دو، درمیان میں پہنچوں گا تو سمجھ آئے گی کہ مجھے کہاں جانا ہے۔

میں نے بہت سے ایسے پروجیکٹس کو صاف انکار کردیا ہے جس میں لوگ چاہتے ہیں کہ کسی ایگزسِٹنگ یا موجود چیز یا آئِیڈیا کے اوپر کام  کیا جائے۔ میرے لئے پروسس اور اس کے دوران ‏ ڈویلَپ ہوتی ہوئی امِیجری بہت اہم ہے۔ ہم منِی ایچر لوگوں کو گرافِکس والے لوگ اکثر اپنے کاموں کے لیے ہائر کرتے ہیں۔ میری ایسے بہت سے لوگوں کے ساتھ کئی سال تک کولیبریَشنز رہی ہیں لیکن ہمیشہ ہی مجھے اس بات سے شدید مسئلہ رہا ہے کہ وہ پہلے سے سوچے ہوئے ایک امیج کو ہی مکمل دیکھنا چاہتے ہیں۔ جب کہ میں ان کو یہ سمجھاتا ہوں کہ یہ بہت مشکل چیز ہے کیونکہ آپ کے سوچے ہوئے ایلِیمنٹ کے آخر تک جاتے ہوئے آپ کے ٹُول تک تو ساتھ نہیں دیتے۔ اسی لیے یہ بڑا مشکل کام ہے کہ پہلے سے دیے گئے امیج سےاتناانصاف کرنا پڑ جائے کہ آخر میں پراسیس کی ہی قربانی ہو جائے۔ میں ایسے آرٹسٹ کو،جو گرافکس والوں کی ڈیمانڈ کا اچھا کام کر پاتے ہیں جادوگرسے کچھ زیادہ ہی بڑا جادوگر سمجھتا ہوں۔ یہ کام زیادہ تر کمیشنڈ ہوتا ہے جس میں کئی دفعہ آرٹسٹ کو اتنی بھی اجازت نہیں دی جاتی کہ وہ پسند سے رنگ ھی لگا لے