Artistic Discourse: Khalid Mahmood (abstract from conversation)

ش م۔ ابھی احساس ہوا مجھے ہم جب کی قربانی کی بات کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے یہ کہ بکرا ہےیا بکری، گائے ہے یا بیل۔ لیکن یہاں تو چِکن کا لفظ استعمال کرکے اس کو جینڈَر سے بھی آزاد کر دیا ہے ہم نے، صرف خوراک ہی ہے ہمارے لئے بس۔

ش م۔ مجھے بتائیں اگر آپ کسی جگہ کے لوکل نہیں ہوتے، کہیں اور سے آتے ہیں، تو آپ اس کو دشواری سمجھتے ہیں یا فائدہ۔

خ م۔ اچھا، میری تو تقریبا ساری عمر ہی اپنے شہر سے باہر رہی ہے۔ میں ہوں کوئٹہ کا، لیکن بیسِک سکُولنِگ صادق پبلک اسکول بہاولپور سے ہے، پھر جامشورو اور پھر لاہور۔ اب ٹھیک ہے کہ اس کے فائدے تو ہیں، کہ ایکسپوژَر بہت ہی فرق بیک گراؤنڈ کے لوگوں سے ہو جاتا ہے لیکن اس کی ایک ڈِس ایڈوانٹیج بھی ہے ۔ وہ یہ کہ جہاں بھی آپ جائیں ، لوگ آپ کو تھوڑا پرایا سمجھتے ہیں، قریب آنے سے جھِجکتے ہیں، اور سمجھنے میں کچھ زیادہ دیر لگا لیتے ہیں۔ کسی حد تک اس رویے کی وجہ سے ڈِسکریِمینیشَن بھی ہو جاتی ہے۔ جس اینوائرمنٹ میں بھی میں گیا ہوں وہاں کسی نہ کسی لیول پے ایک آؤٹ سائِڈر کا درجہ رہا ہے۔ شاید اس کی یہ بھی وجہ ہے کہ اکثر جگہوں پر پرانےگروُپس کی دوستیاں ہی سال بہ سال آگے چلتی جاتی ہیں، اور لوگوں کے لئے نئے آنے والے لوگوں کو قبول کرنا تھوڑا دشوار ہوتا ہے۔